Pages

Aankh Ban Jati Hai Sawan Ki Ghata

آنکھ بن جاتی ہے ساون کی گھٹا شام کے بعد

آنکھ بن جاتی ہے ساون کی گھٹا شام کے بعد
لوٹ جاتا ہے اگر کوئی خفا شام کے بعد
وہ جو ٹل جاتی رہی سر سے بلا شام کے بعد
کوئی تو تھا کہ جو دیتا تھا دعا شام کے بعد
آہیں بھرتی ہے شبِ ہجر یتیموں کی طرح
سرد ہو جاتی ہے ہر روز ہوا شام کے بعد
شام تک قید رہا کرتے ہیں دل کے اندر
درد ہو جاتے ہیں سارے ہی رہا شام کے بعد
لوگ تھک ہار کے سو جاتے ہیں لیکن جاناں
ہم نے خوش ہو کے تِرا درد سہا شام کے بعد
خواب ٹکرا کے پلٹ جاتے ہیں‌ بند آنکھوں سے
جانے کس جرم کی کس کو ہے سزا شام کے بعد
کوئی بھولا ہوا غم ہے جو مسلمل مجھ کو
دل کے پاتال سے دیتا ہے صدا شام کے بعد
مار دیتا ہے اجڑ جانے کا دہرا احساس
کاش ہو کوئی کسی سے نہ جدا شام کے بعد